دل چسپی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - شوق، رغبت، لگاؤ، دلبستگی۔ "عام آدمی کو خالص زبان کے نظریہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔" ( ١٩٨٥ء، بھارت میں قومی زبان کا نفاذ، ٩٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ 'چسپیدن' مصدر سے فعل امر 'چسپ' لگا کر آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٠٠ء کو "ذکر حبیب" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - شوق، رغبت، لگاؤ، دلبستگی۔ "عام آدمی کو خالص زبان کے نظریہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔" ( ١٩٨٥ء، بھارت میں قومی زبان کا نفاذ، ٩٤ )
جنس: مؤنث